یہ خط ‘ ایک ساتھی لکھاری کے خط “تمہارے نام” کے جواب میں لکھا گیا ہے۔
ابھی کل ہی احمد ملنے آیا۔ بڑا ہو گیا ہے۔ بالکل میرا ناک نقشہ ہے۔ بس آنکھیں تمہاری ہیں۔ ثمینہ دفتر سے رات گئے لوٹتی ہے۔ وہ آیا تو گھر میں بس میں ہی تھا۔ اور تمہاری دو بُھوری آنکھیں۔ رات کھانے کے بعد ایک عجیب سوال پوچھنے لگا- ‘کیا آپ کو اب بھی امی سے محبت ہے؟’ میز پر سکوت طاری تھا۔ پھراس کا سوال ہمارے بیچ دلدلی مچھر کی طرح بھنبھنانے لگا۔
یاد ہے بچپن میں ٹائم مشین کے بارے میں بہت سوال کرتا تھا۔ کہنے لگا پاپا اگر آپ ٹائم مشین سے پچیس سال پیچھے لوٹ جائیں تو کیا اس بار خود کو بدل سکیں گے؟ مدتوں بعد اس کی زبان سے یوں ‘پاپا’ سننا مجھے بہت اچھا لگا۔ تم تو جانتی ہو رات کا کھانا سگریٹ کے بغیر میرے حلق سے نہیں اترتا۔ میں نے حسبِ عادت میز پر سگریٹ سُلگا کر ایک کش لگایا۔ نجانے ایک دم اسے کیا ہوا’ ایک جھٹکے سے اٹھا اور یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ پاپا آپ کبھی نہیں بدلیں گے۔ میں نے اسے روکا نہیں۔ تمہیں بھی نہیں روکا تھا۔
‘سوچتا ہوں شاید اس نے غور سے سگریٹ نہیں دیکھا ہوگا۔ مارون بہت مہنگا ہو گیا ہے’ اب ڈپلومیٹ پیتا ہوں
اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا۔

Leave a Reply to randomlyabstract Cancel reply